جکارتہ یکم اکتوبر(ایس او نیوز؍یواین آئی) انڈونیشیا کے سلاویسی جزیرے میں زلزلہ اور سونامی سے ہلاکتوں کی تعداد832ہوگئی اور سینکڑوں لوگ شدید طورپر زخمی ہوگئے ہیں۔سرکاری خبررساں ایجنسی انتارا نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔زلزلے اور سونامی کے بعد بڑی تعدادمیں اسپتال آئے زخمیوں کے علاج کے لئے اسپتالوں کو بہت مشقت کرنی پڑرہی ہے ۔راحت اور بچاؤکارکنوں پریشان حال لوگوں کی مدد کررہے ہیں۔انتارا نے قومی آفات ایجنسی کے سربراہ کے حوالے سے ہلاک شدہ لوگوں کی تعداد اور بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے کیونکہ جمعہ کو آئے 7.5کی شدت والے زلزلے اور تقریباً پانچ فٹ اونچی سونامی کی وجہ سے کٹ چکے دور دراز علاقوں سے رپورٹیں آنی شروع ہوگئی ہیں۔ہلاک شدگان میں زیادہ تر تقریباً ساڑھے تین لاکھ کی آبادی والے ساحلی پالو شہر کے رہنے والے تھے ۔ایجنسی کے ایک ترجمان کے مطابق اس حادثے میں200سے زیادہ لوگ بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔اسپتالوں میں بڑی تعدا میں زخمی بھرتی ہورہے ہیں جبکہ کئی لوگوں کا علاج کھلے آسمان کے نیچے کیا جارہا ہے ۔زندہ بچے لوگ ہلاک شدہ لوگوں کی لاشیں نکالنے میں لگے ہیں۔ایک شخص کو سمندر کے پاس ایک چھوٹے بچے کی ریت میں لپٹی لاش نکالتے دیکھا گیا۔انڈونیشیا کے صدر جوکو وڈوڈو نے کہا کہ راحت اور بچاؤ کے کام میں مدد کے لئے فوج کو بھی لگایا گیا ہے ۔انہوں نے لوگوں سے زلزلے اور سونامی متاثرین کے لئے دعاکرنے کی بھی اپیل کی ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سلاویسی جزیرے پر زلزلے کے جھٹکے آنے کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں دہشت ہے ۔پالو میں ڈرے ہوئے لوگ باہر ہی رہ رہے ہیں۔متاثر لوگوں تک راحت پہنچانے کے لئے انڈونیشیا کی فوج کو اتارا گیا ہے ۔افسروں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی بہت سے لوگ لاپتہ ہیں جن میں سے کئی ملبے میں دبے ہوسکتے ہیں۔سلاویسی جزیرے کا اہم شہر پالو اور زلزلے کے مرکز کے نزدیک واقع ڈونگالا شہر سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔